حدیث نمبر: 20972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَقُولُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمْنَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، يُشِيرُ أَحَدُنَا بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ الَّذِينَ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ ، أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمَ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم لوگ دائیں بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جس طرح دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو کیا تم سکون سے نہیں رہ سکتے کہ ران پر ہاتھ رکھ ہوئے ہی اشارہ کرلو۔ دائیں بائیں جانب اپنے ساتھی کو سلام کرلو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 431