حدیث نمبر: 209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، قَالَ : فَسَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِنَفْسِي : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْكَ ، قَالَ : فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي ، فَتَقَدَّمْتُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ ، قَالَ : فَإِذَا أَنَا بِمُنَادٍ يُنَادِي : يَا عُمَرُ ، أَيْنَ عُمَرُ ؟ قَالَ : فَرَجَعْتُ ، وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَزَلَتْ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ سُورَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 1 - 2 .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق تین مرتبہ سوال کیا ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بھی جواب نہ دیا ، میں نے اپنے دل میں کہا: ابن خطاب ! تیری ماں تجھے روئے ، تو نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ ایک چیز کے متعلق دریافت کیا ،لیکن انہوں نے تجھے کوئی جواب نہ دیا ، یہ سوچ کر میں اپنی سواری پر سوار ہو کر وہاں سے نکل آیا کہ کہیں میرے بارے قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک منادی میرا نام لے کر پکارتا ہوا آیا کہ عمر کہاں ہے ؟ میں یہ سوچتا ہوا واپس لوٹ آیا کہ شاید میرے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل ہوئی ہے ، وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”آج رات مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ پسندیدہ ہے“ ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت الفتح کی پہلی آیت تلاوت فرمائی ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4177