حدیث نمبر: 20617
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَامَى بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهِ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَسَعَيْتُ أَنْظُرُ مَا حَدَثَ كُسُوفِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " وَإِذَا هُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيَحْمَدُ ، وَيُهَلِّلُ ، وَيُكَبِّرُ ، وَيَدْعُو ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تیر اندازی کررہا تھا کہ سورج کو گہن لگ گیا میں نے اپنے تیروں کو ایک طرف پھینکا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ پڑا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ کسوف شمس کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح وتحمید اور تحمید اور تہلیل وتکبیر اور دعاء میں مصروف تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک اسی عمل میں مصروف رہے جب تک سورج روشن نہ ہوگیا پھر آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں پڑھائیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 913