مسند احمد
أول مسند البصريين
حَدِيثُ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 20605
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَا : لَمَّا نَزَلَتْ ( وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ) ، صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقْمَةً مِنْ جَبَلٍ عَلَى أَعْلَاهَا حَجَرٌ ، فَجَعَلَ يُنَادِي " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ ، فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ يَا صَبَاحَاهْ " . .مولانا ظفر اقبال
حضرت قبیصہ بن مخارق سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت وانذر عشیرتک الاقربین نازل ہوئی تو آپ ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور پکار کر فرمایا اے آل عبدمناف ایک ڈرانے والے کی بات سنو میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو دشمن کو دیکھ کر اہل علاقہ کو ڈرانے کے لئے نکل پڑے اور یاصباحاہ کی نداء لگانا شروع کردے۔