حدیث نمبر: 20510
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ ، أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا ؟ ! " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ جُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ خَيْرًا مِنَ الْحَلِيفَيْنِ مِنْ تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ " يَمُدُّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ " أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا ؟ ! " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ " فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کے نزدیک اسلم اور غفار قبیلے کے لوگ بنواسد اور بنوغطفان سے بہتر ہوں تو کیا وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ ان سے بہتر ہیں پھر فرمایا یہ بتاؤ اگر جہینہ اور مزینہ بنوتمیم اور بنوعامر " جو دونوں حلیف " ہیں سے بہتر ہوں تو کیا بنوتمیم وغیرہ خسارے میں ہوں گے یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز کو بلند فرمایا لوگوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ان سے بہتر ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3515، م: 2522، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد لكنه توبع