حدیث نمبر: 20305
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمٍ ، فَقُلْتُ : مَا أَحْسَنَ أَنْ أَقْضِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " اللَّهُ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت معقل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا میں اپنی قوم میں فیصلے کیا کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اچھی طرح فیصلہ نہیں کرنا جانتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی کے ساتھ اللہ ہوتا ہے جب تک وہ جان بوجھ کر ظلم نہ کرے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، نفيع بن الحارث متروك متهم