حدیث نمبر: 20117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّاءُ طَافَ بِهَا إِبْلِيسُ ، وَكَانَ لَا يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ ، فَقَالَ : سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ ، فَإِنَّهُ يَعِيشُ , فَسَمَّوْهُ عَبْدَ الْحَارِثِ ، فَعَاشَ ، وَكَانَ ذَلِكَ مِنْ وَحْيِ الشَّيْطَانِ ، وَأَمْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب حضرت حواء علیہ السلام امید سے ہوئی تو ان کے پاس شیطان آیا، حضرت حواء علیہ السلام کا کوئی بچہ زندہ نہ رہتا تھا، شیطان نے ان سے کہا کہ اپنے بچے کا نام عبد الحارث رکھنا تو وہ زندہ رہے گا، چنانچہ انہوں نے اپنے بچے کا نام عبدالحارث رکھ دیا اور وہ زندہ بھی رہا، یہ شیطان کے وسوسے اور فہمائش پر ہوا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمر بن إبراهيم فى روايته عن قتادة ضعف، والحسن لم يصرح بسماعه