حدیث نمبر: 20063
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ وَهُوَ فِي غَزْوٍ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا ، فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ مَالِهِ ، وَعَلَيْهِ شِرَاؤُهَا لِسَيِّدَتِهَا ، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ ، فَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ لِسَيِّدَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے ایک غزوے کے دوران اپنی بیوی کی باندی سے بدکاری کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہوجائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہوجائے گا اور اگر یہ کام اس کی رضا مندی سے ہوا ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی، البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من سلمة بن المحبق، ثم إن فى هذا الاسناد اختلافا