حدیث نمبر: 19869
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ : فِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " , أَوْ كَمَا قَالَ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا اہل جہنم، اہل جنت سے ممتاز ہوچکے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کرتے رہو، کیونکہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6596، م: 2649