حدیث نمبر: 19742
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُمَا : " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا ، وَتَطَاوَعَا " ، قَالَ أَبُو مُوسَى : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ ، يُقَالُ لَهُ : الْبِتْعُ ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ ، يُقَالُ لَهُ : الْمِزْرُ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا خوشخبری دینا، نفرت مت پھیلانا، آسانی پیدا کرنا، مشکلات میں نہ ڈالنا، ایک دوسرے کی بات ماننا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں، مثلاً جو کی نبیذ ہے جسے مزر کہا جاتا ہے اور شہد کی نبیذ ہے جسے " تبع " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6124، م: 1733