حدیث نمبر: 197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ : " أَلَا وَإِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ : مَا بَالُ الرَّجْمِ ؟ فِي كِتَابِ اللَّهِ الْجَلْدُ ! وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ ، وَلَوْلَا أَنْ يَقُولَ قَائِلُونَ ، أَوْ يَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمُونَ : أَنَّ عُمَرَ زَادَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ ، لَأَثْبَتُّهَا كَمَا نُزِّلَتْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یاد رکھو ! بعض لوگ کہتے ہیں کہ رجم کا کیا مطلب ؟ قرآن کریم میں تو صرف کوڑے مارنے کا ذکر آتا ہے ، حالانکہ رجم کی سزا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے اور ہم نے بھی دی ہے ، اگر کہنے والے یہ نہ کہتے کہ عمر نے قرآن میں اضافہ کر دیا تو میں اسے قرآن میں لکھ دیتا ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2462، م: 1691