حدیث نمبر: 196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ : " أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ ، أَقَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، أَوْ فِي شَيْءٍ مُبْتَدَإٍ ، أَوْ أَمْرٍ مُبْتَدَعٍ ؟ قَالَ : " فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَا نَتَّكِلُ ؟ فَقَالَ : " اعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، فَيَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاءِ ، فَيَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال

ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہم جو عمل کرتے ہیں ، کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ؟ فرمایا : ”نہیں ! بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے“ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں ؟ فرمایا : ”ابن خطاب ! عمل کرتے رہو کیونکہ جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، اسے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے ، پھر جو سعادت مند ہوتا ہے وہ نیکی کے کام کرتا ہے اور جو اشقیاء میں سے ہوتا ہے وہ بدبختی کے کام کرتا ہے ۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله