حدیث نمبر: 19569
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ ، وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ ، سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ " ، قِيلَ : وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ ؟ قَالَ : " نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ ، يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ رِيحُ فُرُوجِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہ ہوسکیں گے عادی شرابی، قطع رحمی کرنے والا اور جادو کی تصدق کرنے والا اور جو شخص عادی شرابی ہونے کی حالت میں مرجائے، اللہ اسے " نہر غوطہ " کا پانی پلائے گا ! کسی نے پوچھا نہر غوطہ سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ نہر جو فاحشہ عورتوں کی شرمگاہوں سے جاری ہوگی اور ان کی شرمگاہوں کی بدبو تمام اہل جہنم کو اذیت پہنچائے گی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله منه :ثلالثة…ومصدق بالسحر،حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جرير