حدیث نمبر: 19477
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِيكٌ ، وَلَا قَسْمٌ ، إِلَّا الْجِوَارَ ؟ قَالَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح