حدیث نمبر: 19422
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَطِيَّةَ يَقُولُ : كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدٌ فِيهِمْ غُلَامًا ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ ، فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے متعلق فیصلہ فرمایا ہے میں ایک چھوٹا لڑکا تھا، انہوں نے میرے زیر ناف بال اگے ہوئے نہیں پائے اسی وجہ سے آج میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح