حدیث نمبر: 191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عن عمر : أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَبِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَتَعَجَّبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ جِبْرِيلُ ، أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہے ؟ فرمایا : ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، کتابوں ، پیغمبروں ، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر یقین رکھو“ ، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا : آپ نے سچ کہا ، ہمیں تعجب ہوا کہ سوال بھی کر رہے ہیں اور تصدیق بھی کر رہے ہیں ، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ یہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارے دین کی اہم باتیں سکھانے آئے تھے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 8