حدیث نمبر: 19
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ ، أَنَّ أَبَاهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَعْمَلُ عَلَى مَا فُرِغَ مِنْهُ ، أَوْ عَلَى أَمْرٍ مُؤْتَنَفٍ ؟ قَالَ : " بَلْ عَلَى أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال

ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم جو عمل کرتے ہیں ، کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے ؟ فرمایا : ”نہیں ! بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے“ ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ فرمایا : ”جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے ۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 19
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن طلحة بن عبيد الله.