حدیث نمبر: 1861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتْ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ ، إِنْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْجَاهَا أَنْ تَصُومَ شَهْرًا ، فَأَنْجَاهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ ، فَجَاءَتْ قَرَابَةٌ لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " صُومِي " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم واپس پہنچا دیا لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی ایک رشتہ دار عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ سارا واقعہ عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم روزے رکھ لو۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1861
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1953 - تعليقاً، م: 1148، هشيم مدلس وقد عنعن، لكنه توبع.