حدیث نمبر: 18411
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الْمُدَّهِنِ وَالْوَاقِعِ فِي حُدُودِ اللَّهِ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : الْقَائِمِ فِي حُدُودِ اللَّهِ مَثَلُ ثَلَاثَةٍ رَكِبُوا فِي سَفِينَةٍ ، فَصَارَ لِأَحَدِهِمْ أَسْفَلُهَا وَأَوْعَرُهَا وَشَرُّهَا ، فَكَانَ يَخْتَلِفُ ، وَثَقُلَ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَرَّ ، فَقَالَ : أَخْرِقُ خَرْقًا يَكُونُ أَهْوَنَ عَلَيَّ ، وَلَا يَكُونُ مُخْتَلَفِي عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا يَخْرِقُ فِي نَصِيبِهِ ، وَقَالَ آخَرُونَ : لَا ، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ ، نَجَا وَنَجَوْا ، وَإِنْ تَرَكُوهُ هَلَكَ وَهَلَكُوا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل مجالد، وقد سلف بأسانيد صحيحة