حدیث نمبر: 1789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ ؟ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ ، لَوْلَا ذَلِكَ لَكَانَ هُوَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال

ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے چچا ابوطالب آپ کا بہت دفاع کیا کرتے تھے، آپ کی وجہ سے انہیں کیا فائدہ ہوا؟ فرمایا: ”وہ جہنم کے اوپر والے حصے میں ہیں، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3883، م: 209.