حدیث نمبر: 1786
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ , عَنِ الْعَبَّاسِ , قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : " انْظُرْ هَلْ تَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ نَجْمٍ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا تَرَى ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : أَرَى الثُّرَيَّا ، قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ يَلِي هَذِهِ الْأُمَّةَ بِعَدَدِهَا مِنْ صُلْبِكَ ، اثْنَيْنِ فِي فِتْنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھئے، آسمان میں آپ کو کوئی ستارہ نظر آتا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”کون سا ستارہ نظر آتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ثریا، فرمایا: ”تمہاری نسل میں سے اس ثریا ستارے کی تعداد کے برابر لوگ اس امت کے حکمران ہوں گے جن میں سے دو آزمائش کا شکار ہوں گے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، لثلاث علل.