حدیث نمبر: 1774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَغْنَيْت عَنْ عَمِّكَ ، فَقَدْ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ ، قَالَ : " هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارَ ، وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال

ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے چچا ابوطالب آپ کا بہت دفاع کیا کرتے تھے، آپ کی وجہ سے انہیں کیا فائدہ ہوا؟ فرمایا: ”وہ جہنم کے اوپر والے حصے میں ہیں، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3883، م: 209.