حدیث نمبر: 17647
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْعَنْ أَهْلَ الْيَمَنِ ، فَإِنَّهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ ، كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ ، حَصِينَةٌ حُصُونُهُمْ . فَقَالَ : " لَا " ، ثُمَّ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْجَمِيِّينَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَرُّوا بِكُمْ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ ، يَحْمِلُونَ أَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، فَإِنَّهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اہل یمن پر لعنت فرمائیے کیونکہ وہ بڑے سخت جنگجو، کثیر تعداد اور مضبوط قلعوں والے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا جب اہل یمن تمہارے پاس سے اپنی عورتوں کو لے کر اور اپنے بچوں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر گذریں تو وہ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد بدلس تدليس التسوية، فلا يقبل حديثه إلا أن يصرح بالسماع فى جميع طبقات السند