حدیث نمبر: 17492
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي ، فَرَأَى الَّتِي بِظَهْرِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أُعَالِجُهَا لَكَ فَإِنِّي طَبِيبٌ ؟ قَالَ : " أَنْتَ رَفِيقٌ ، وَاللَّهُ الطَّبِيبُ " . قَالَ : " مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ " فَقَالَ : ابْنِي اشْهَدْ بِهِ . قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ ، وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ " . قَال عَبْدُ الله : قَالَ أَبي : اسْمُ أَبِي رِمْثَةَ رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پشت پر انہوں نے جب مہر نبوت دیکھی تو کہنے لگے یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ کا علاج نہ کروں ؟ کہ میں طبیب ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو رفیق ہو، طبیب، اللہ ہے، پھر فرمایا یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! یہ تمہارے کسی جرم کا اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح