حدیث نمبر: 17291
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً ، فَسَأَلَ عُقْبَةُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ " ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ عَنْهُ ، فَلَمَّا خَلَا مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عَادَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ أُخْتِكَ نَفْسَهَا لَغَنِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال

عبداللہ بن مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے، عقبہ رضی اللہ عنہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم بات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے، اس لئے ایک مرتبہ پھر خلوت ہونے کے بعد اپنا سوال دہرایا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب سابق وہی حکم دیا اور فرمایا کہ تمہاری ہمشیرہ کے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرنے سے اللہ غنی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه ، والأكثر على تضعيفه