حدیث نمبر: 17240
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي ، قَالَ : " إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ ، وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاكَ ، فَهُوَ خَيْرٌ " ، فَقَالَ : ادْعُهُ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ، فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ ، فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ ، يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ ، فَتَقْضِي لِي ، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے ؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ نبی الرحمۃ ہیں کے وسیلے سے آپ سے سوال کرتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو لے کر اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں اور اپنی یہ ضرورت پیش کرتا ہوں، تاکہ آپ میری یہ ضرورت پوری کردیں، اے اللہ ! میرے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما اس نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح