حدیث نمبر: 17231
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ أَمُرُّ بِهِ ، فَلَا يُضَيِّفُنِي ، وَلَا يَقْرِينِي ، فَيَمُرُّ بِي فَأَجْزِيهِ ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ اقْرِهِ " ، قَالَ : فَرَآنِي رَثَّ الثِيَابَ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ؟ " فَقُلْتُ : قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ الْمَالِ مِنَ الْإِبِلِ ، وَالْغَنَمِ ، قَالَ : " فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میں کسی شخص کے یہاں مہمان بن کر جاؤں اور وہ میرا اکرام کرے اور نہ ہی مہمان نوازی، پھر وہی شخص میرے یہاں مہمان بن کر آئے تو میں بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا یا میں اس کی مہمان نوازی کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم اس کی مہمان نوازی کرو، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس قسم کا مال ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطاء فرما رکھے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح