حدیث نمبر: 1722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ , أَنَّهُ مَرَّ بِهِمْ جَنَازَةٌ ، فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَقُمْ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : مَا صَنَعْتُمْ ؟ إِنَّمَا " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَذِّيًا بِرِيحِ الْيَهُودِيِّ " .
مولانا ظفر اقبال

محمد بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک جنازہ گذرا، لوگ کھڑے ہو گئے لیکن سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کھڑے نہ ہوئے، اور فرمانے لگے کہ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اس لئے کھڑے ہوتے تھے کہ اس یہودی کی بدبو سے - جس کا جنازہ گذر رہا تھا - تنگ آگئے تھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند اهل البيت رضوان الله عليهم اجمعين / حدیث: 1722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتدليس الحجاج بن أرطاة ولانقطاعه، فإن محمد بن على لم يدرك الحسن بن علي.