حدیث نمبر: 17209
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِنُصَلِّيَ بِإِيلِيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ ، يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ : فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَسَأَلَنِي : هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ ؟ فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرَةٍ عَنْ : " الْوَشْرِ ، وَالْوَشْمِ ، وَالنَّتْفِ ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعْلَامِ ، وَأَنْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِثْلَ الْأَعَاجِمِ ، وَعَنِ النُّهْبَى ، وَرُكُوبِ النُّمُورِ ، وَلَبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال

ابوالحصین ہیثم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرا ایک دوست جس کا نام ابوعامر تھا اور قبیلہ معافر سے اس کا تعلق تھا ، بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے روانہ ہوئے ، وہاں قبیلہ ازد کے ایک صاحب جن کا نام ابوریحانہ تھا اور وہ صحابہ میں سے تھے وعظ کہا کرتے تھے ، میرا ساتھی مجھ سے پہلے مسجد پہنچ گیا، تھوڑی دیر میں ، مَیں بھی اس کے پاس پہنچ کر اس کے پہلو میں بیٹھ گیا، اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کبھی ابوریحانہ کی مجلس وعظ میں بیٹھے ہو ؟ میں نے کہا: نہیں، اس نے بتایا کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں سے منع فرمایا ہے ۔ ”دانتوں کو باریک کرنے سے ، جسم گودنے سے ، بال نوچنے سے، ایک مرد کے دوسرے مرد کے ساتھ بغیر رکاوٹ کے ایک ہی برتن سے منہ لگانے سے ، ایک عورت کے دوسری عورت کے ساتھ ایک ہی برتن کے ساتھ منہ لگانے سے ، کپڑے کے نچلے حصے میں نقش و نگار کی طرح ریشم لگانے سے ، کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑے ڈالنے سے ، لوٹ مار سے ، چیتوں کی کھال کے پالانوں پر سواری کرنے سے اور بادشاہ کے علاوہ کسی اور کے انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون النهي عن اتخاذ الأعلام من الحرير أسفل الثياب، والنهي عن البوس الخاتم إلا الذى سلطان، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى عامر