مسند احمد
مسند الشاميين
حَدِیث المِقدَامِ بنِ مَعدِی كَرِبَ الكِندِیِّ اَبِی كَرِیمَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه ...
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ : وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ ، إِلَى مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ : أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَتُرَاهَا مُصِيبَةً ؟ فَقَالَ : وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ ، وَقَالَ : " هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ " ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا.ایک مرتبہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے علم میں ہے کہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں ؟ یہ سنتے ہی سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ اسے عظیم مصیبت سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں ؟ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھا کر فرمایا تھا کہ یہ مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے (رضی اللہ عنہ)۔