مسند احمد
مسند الشاميين
حَدِیث المِقدَامِ بنِ مَعدِی كَرِبَ الكِندِیِّ اَبِی كَرِیمَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه ...
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَالْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْحَكَمُ : سِتَّ خِصَالٍ : أَنْ يُغْفَرَ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ ، وَيَرَى قَالَ الْحَكَمُ : وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ ، وَيُزَوَّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَيُجَارَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيَأْمَنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ قَالَ الْحَكَمُ : يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوضَعَ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ ، الْيَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَيُزَوَّجَ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَيُشَفَّعَ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ " . .سیدنا مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں شہید کے بہت سے مقامات ہیں ، اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے معاف کر دیا جاتا ہے ، جنت میں اسے اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے ، اسے عذاب قبر سے محفوظ کر دیا جاتا ہے اور اسے فزع اکبر (بڑی گھبراہٹ ) سے محفوظ کر دیا جاتا ہے ، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک ایک یاقوت دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا ، بہتر حورعین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے ، اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے حق میں اس کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے ۔