حدیث نمبر: 17165
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيّ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا عَامِرٍ ، أَلَا غَيَّرْتَ ؟ " فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَيْنَ ذَهَبْتُمْ ؟ ! إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ اوطاس میں ان کا ایک آدمی مارا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عامر ! تجھے غیرت نہ آئی“ ، سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر سنا دی ، ”اے ایمان والو ! اپنے نفس کا خیال رکھنا اپنے اوپر لازم کر لو ، اگر تم ہدایت پر ہوئے تو کسی کے بھٹکنے سے تمہیں نقصان نہیں ہو گا ۔“ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے اور فرمایا کہ تم کہاں جا رہے ہو ۔ ؟ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ اے اہل ایمان ! اگر تم ہدایت پر ہوئے تو گمراہ کافر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، حديث على ابن مدرك عن الصحابة منقطع