حدیث نمبر: 17102
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ابْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ وَكِيعٌ وَيَقُولُ : " اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ فَأَنْتُمْ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا " .مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرماتے : ”صفیں سیدھی کر لو ، اور آگے پیچھے نہ ہو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا ، تم میں سے جو عقلمند اور دانشور ہیں ، وہ میرے قریب رہا کریں ، پھر درجہ بدرجہ صف بندی کیا کرو“ ، سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کہ آج تم انتہائی شدید اختلافات میں پڑے ہوئے ہو (جس کی وجہ ظاہر ہے ) ۔