حدیث نمبر: 17092
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا ، وَلَا يُؤَمَّنَّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ أَوْ بِإِذْنِهِ " .مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں قرآن کا سب سے بڑا قاری اور سب سے قدیم القرأت ہو ، اگر سب لوگ قرأت میں برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے ، اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو سب سے عمر رسیدہ آدمی امامت کرے ، کسی شخص کے گھر یا حکو مت میں کوئی دوسرا امامت نہ کرائے ، اسی طرح کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کے باعزت مقام پر نہ بیٹھے الا یہ کہ وہ اجازت دے ، دے ۔