حدیث نمبر: 17064
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ : مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا ؟ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَرْجُوكَ بِهَا ، فَقَالَهَا لَهُ ثَلَاثًا ، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ : أَيْ رَبِّ ، كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي فَضْلًا مِنْ مَالٍ فِي الدُّنْيَا ، فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ ، وَكَانَ مِنْ خُلُقِي أَتَجَاوُزُ عَنْهُ ، وَكُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ ، وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ، فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ : نَحْنُ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْكَ ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي ، فَغُفِرَ لَهُ " ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . " وَرَجُلٌ آخَرُ أَمَرَ أَهْلَهُ إِذَا مَاتَ أَنْ يُحَرِّقُوهُ ، ثُمَّ يَطْحَنُوهُ ، ثُمَّ يَذُرُّوه فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ ، فَجُمِعَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ لَهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : يَا رَبِّ لَمْ يَكُنْ عَبْدٌ أَعْصَى لَكَ مِنِّي ، فَرَجَوْتُ أَنْ أَنْجُوَ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " فَغُفِرَ لَهُ ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو بارگاہ خداوندی میں پیش کیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تو نے دنیا میں کیا کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے ایک ذرے کے برابر بھی نیکی کا کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کے ثواب کی مجھے تجھ سے امید ہو ، تین مرتبہ اسی طرح ہوا ، تیسری مرتبہ اس نے کہا کہ پروردگار ! تو نے مجھے دنیا میں مال و دولت کی فراوانی عطاء فرمائی تھی ، اور میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا ، میری عادت تھی کہ میں لوگوں سے درگزر کرتا تھا ، مالدار پر آسانی کر دیتا تھا اور تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس بات کے حقدار تو تجھ سے زیادہ ہم ہیں, فرشتو ! میرے بندے سے بھی درگزر کرو چنانچہ اس کی بخشش ہو گئی ، اس حدیث کو سن کر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے اسی طرح سنی ہے ۔ ایک اور آدمی تھا جس نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا کر پیس لیں ، اور جس دن تیز ہوا چل رہی ہو تو اس کی راکھ کو بکھیر دیں ، اس کے اہل خانہ نے ایسا ہی کیا ، اس شخص کے تمام اعضاء کو پروردگار کی بارگاہ میں جمع کیا گیا اور اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے ایسا کرنے پہ کس چیز نے مجبور کیا ؟ اس نے عرض کی کہ پروردگار ! مجھ سے زیادہ تیرا نافرمان بندہ کوئی نہ تھا ، میں نے سوچا کہ شاید اس طرح بچ جاؤں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فرشتو ! میرے بندے سے درگزر کرو ، یہ حدیث سن کر بھی حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ حدیث بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنی ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح