مسند احمد
مسند الشاميين
بَقِیَّة حَدِیثِ زَیدِ بنِ خَالِد الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ ...
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، قَالَ أَبِي : وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي قَالَ إِسْحَاقُ ، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ " .سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوئی ، جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ”کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے آج رات کیا فرمایا ؟“ انہوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ، فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندوں میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت مؤمن ( اور ستاروں کے منکر ، جبکہ لوگ ستاروں پر مؤمن) اور میرے منکر ہوتے ہیں ، جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا اور ستاروں کا انکار کرتا ہے ، اور جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے وہ تو ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر کرتا ہے ۔ “