حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ ؟ قَالَ : " حُرٌّ وَعَبْدٌ " وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَبِلَالٌ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ حَتَّى يُمَكِّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ " ، قَالَ : وَكَانَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ ، يَقُولُ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي ، وَإِنِّي لَرُبُعُ الْإِسْلَامِ .حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ اس دین پر اور کون لوگ ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آذاد بھی اور غلام بھی“ ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنی قوم میں واپس چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو غلبہ عطاء فرما دے“ ، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں چوتھائی اسلام تھا ، (اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھا فرد) ۔