حدیث نمبر: 17020
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ سُلَيْمٍ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ، أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ تَزَيُّدٌ ، وَلَا نِسْيَانٌ ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً ، كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ عُضْوًا بِعُضْوٍ ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فَبَلَغَ فَأَصَابَ ، أَوْ أَخْطَأَ ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال

شرجیل بن سمط نے ایک مرتبہ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث بتایئے جس میں کوئی اضافہ یا بھول چوک نہ ہو ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی کسی غلام کو آزاد کرائے ، اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا ۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جائے تو وہ بڑھاپا اس کے لئے قیامت کے دن دن باعث نور ہو گا ۔ اور جو شخص کوئی تیر پھینکے خواہ وہ نشانے پر لگے یا نشانہ چوک جائے تو یہ ۔ ایسے ہی ہے جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کوئی غلام آزاد کرنا ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: «من ولد إسماعيل» وهذا إسناد منقطع، سليم بن عامر لم يدرك عمرو بن عبسة