حدیث نمبر: 16955
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ ، زَارَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ ، فَوَجَدَهُ يُنَقِّي شَعِيرًا لِفَرَسِهِ ، قَالَ : وَحَوْلَهُ أَهْلُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَوْحٌ : أَمَا كَانَ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَكْفِيكَ ؟ قَالَ تَمِيمٌ : بَلَى ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا ، ثُمَّ يُعَلِّقُهُ عَلَيْهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال

روح بن زنباع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے گئے ، وہاں پہنچ کر دیکھا کہ وہ خود اپنے گھوڑے کے لئے جَو کے دانے صاف کر رہے ہیں ، حالانکہ ان کے اہل خانہ وہیں پر تھے ، روح کہنے لگے کہ کیا ان میں سے کوئی یہ کام نہیں کر سکتا ؟ انہوں نے فرمایا : کیوں نہیں ، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے گھوڑے کے لئے جَو کے دانے صاف کرے ، پھر اسے وہ کھلا دے تو اس لئے ہر دانے کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جائے گی ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف