حدیث نمبر: 16921
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ ، وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِطِيبِ نَفْسٍ ، فَإِنَّهُ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِشَرَهِ نَفْسٍ ، وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ ، فَهُوَ كَالَّذِي يَأْكُلُ فَلَا يَشْبَعُ "
مولانا ظفر اقبال

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تو صرف خزانچی ہوں ، اصل دینے والا اللّٰہ ہے، اس لیے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ کوئی بخشش دوں تو اسے اس کے لیے مبارک کر دیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لیے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں ، وہ اس شخص کی طرف ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ابن لهيعة ضعيف، لكنه توبع