حدیث نمبر: 16795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنِ الفُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : فَتَذَاكَرْنَا الشَّرَابَ ، فَقَالَ : الْخَمْرُ حَرَامٌ ، قُلْتُ لَهُ : الْخَمْرُ حَرَامٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَأَيْشْ تُرِيدُ ، تُرِيدُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالَ : قُلْتُ : مَا الْحَنْتَمُ ؟ ، قَالَ : كُلُّ خَضْرَاءَ وَبَيْضَاءَ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا الْمُزَفَّتُ ؟ ، قَالَ : كُلُّ مُقَيَّرٍ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ .
مولانا ظفر اقبال

فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکر ہ شروع ہو گیا اور سیدنا عبداللہ بن مغفل کہنے لگے کہ شراب حرام ہے، میں نے پوچھا : کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے ؟ انہوں فرمایا : تمہارا مقصد کیا ہے ؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں ؟ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے حنتم کا مطلب پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا، میں مزفت کا مطلب پوچھا : تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا برتن۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح