حدیث نمبر: 16788
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا ، فَاقْتُلُوا مِنْهَا الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ ، وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ حَرْثٍ ، أَوْ صَيْدٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصُوا مِنْ أُجُورِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطًا " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : " وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلَا نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر کتے بھی ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کی نسل ختم کرنے کا حکم دے دیتا، لہذا جو انتہائی کالا سیاہ کتا ہو ، اسے قتل کر دیا کر و اور جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے کو رکھتے ہیں جو کھیت، شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو ، ان کے اجر وثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہو تی رہتی ہے۔ اور ہمیں حکم تھا کہ بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہیں پڑھ سکتے ، کیونکہ ان کی پیدائش شیطان سے ہوئی ہے (ان کی فطرت میں شیطانیت پائی جاتی ہے)

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح