حدیث نمبر: 16787
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعَنِي أَبِي ، وَأَنَا أَقُولُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ ، إِيَّاكَ قَالَ : " وَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَبْغَضَ إِلَيْهِ حَدَثًا فِي الْإِسْلَامِ مِنْهُ فَإِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَمَعَ عُثْمَانَ ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقُولُهَا ، فَلَا تَقُلْهَا ، إِذَا أَنْتَ قَرَأْتَ ، فَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال

یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد نے مجھے نماز میں بآواز بلند بسم اللہ پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ بیٹا اس سے اجتناب کر و، یزید کہتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو بدعت سے اتنی نفرت کرتے ہوئے نہیں دیکھا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تینوں خلفاء کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی کو بلند آواز سے بسم اللہ پڑھتے ہوئے نہیں سنا لہذا تم بھی نہ پڑھا کر و، بلکہ الحمدللہ رب العلمین سے قرأت کا آغاز کیا کر و۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن فى الشواهد