حدیث نمبر: 1668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : " سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَوْتَ ابْنِ الْمُغْتَرِفِ ، أَوْ ابْنِ الْغَرِفِ الْحَادِي فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، وَنَحْنُ مُنْطَلِقُونَ إِلَى مَكَّةَ ، فَأَوْضَعَ عُمَرُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مَعَ الْقَوْمِ ، فَإِذَا هُوَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ ، قَالَ عُمَرُ : هَيْءَ الْآنَ ، اسْكُتْ الْآنَ ، قَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ , اذْكُرُوا اللَّهَ ، قَالَ : ثُمَّ أَبْصَرَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ خُفَّيْنِ ، قَالَ : وَخُفَّانِ ؟ فَقَالَ : قَدْ لَبِسْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، أَوْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا نَزَعْتَهُمَا ، فَإِنِّي أَخَافُ ، أَنْ يَنْظُرَ النَّاسُ إِلَيْكَ ، فَيَقْتَدُونَ بِكَ " .
مولانا ظفر اقبال

عبداللہ بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مکہ مکرمہ جا رہے تھے، آدھی رات کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کانوں میں ابن مطرف - جو اونٹوں کا حدی خوان تھا - کی آواز پڑی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور لوگوں میں داخل ہو گئے، وہاں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، جب طلوع فجر ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اب بس کرو، اب خاموش ہو جاؤ کیونکہ طلوع فجر ہو چکی، اب اللہ کا ذکر کرو۔ پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے موزوں پر پڑی تو فرمایا کہ آپ نے موزے پہن رکھے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو میں نے اس ہستی کی موجودگی میں بھی پہنے ہیں جو آپ سے بہتر تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ ان موزوں کو اتار دیجئے، اس لئے کہ مجھے خطرہ ہے کہ اگر لوگوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آپ کی پیروی کرنے لگیں گے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك بن عبدالله ضعيف، سوء حفظه وعاصم بن عبيدالله ضعيف.