حدیث نمبر: 16661
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُوَيْسٍ ، سَمِعْتُ مِنْهُ فِي خِلَافَةِ الْمَهْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ : أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا عَقِيرًا وَحْشِيًّا بِوَدَّانَ ، أَوْ قَالَ : بِالْأَبْوَاءِ ، قَالَ : فَرَدَّهُ عَلَيَّ ، فَلَمَّا رَأَى شِدَّةَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي ، قَالَ : " إنَّا إِنَّمَا رَدَدْنَاهُ عَلَيْكَ لِأَنَّا حُرُمٌ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت مقام ابواء یاودان میں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت ہدیۃ پیش کیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے واپس کر دیا اور جب میرے چہرے پر غمگینی کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اسے واپس کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم محرم ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1825، م: 1193 دون قوله: عقيرا، وهو خطأ لضعف أبى أويس، والمحفوظ: حمار وحش