مسند احمد
مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين
بَقِیَّة حَدِیثِ ابنِ الاَكوَعِ فِی المضَافِ مِنَ الاَصلِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِسُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ سَلَمَةُ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ بَايَعَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَمَعَهُ قَوْمٌ ، فَقَالَ : " بَايِعْ يَا سَلَمَةُ " ، فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ ، قَالَ : " وَأَيْضًا " ، فَبَايَعْتُهُ الثَّانِيَةَ .سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی دعاء کا آغاز کرتے ہوئے سنا تو اس کے آغاز میں یہی کہتے ہوئے سنا " سبحان ربی الاعلی العلی الوہاب ۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے دوسرے لوگوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی دوبارہ گزرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سلمہ ! بیعت کر و، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ! میں بیعت کر چکا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوبارہ سہی، چنانچہ میں نے دوبارہ بیعت کر لی۔