حدیث نمبر: 16301
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَرْبَعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ ، وَرَجُلٌ هَرَمٌ ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ ، فَأَمَّا الْأَصَمُّ ، فَيَقُولُ : رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا ، وَأَمَّا الْأَحْمَقُ ، فَيَقُولُ : رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَالصِّبْيَانُ يَحْذِفُونِي بِالْبَعْرِ ، وَأَمَّا الْهَرَمُ ، فَيَقُولُ : رَبِّي لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ ، فَيَقُولُ : رَبِّ مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ . فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ ، فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ أَنْ ادْخُلُوا النَّارَ ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا ، لَكَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ قیامت کے دن چار قسم کے لوگ ہوں گے (١) بہرا آدمی جو کچھ سن نہ سکے ٢۔ احمق آدمی۔ ٣۔ بوڑھا آدمی۔ ٤۔ فترت وحی (انقطاع رسل) کے زمانے میں مرنے والا آدمی۔ چنانچہ بہرا آدمی اعراض کر ے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن میں کچھ سن ہی نہ سکا احمق عرض کر ے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن بچے مجھ پر مینگینیاں برساتے تھے بوڑھاعرض کر ے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن اس وقت میری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور فترت وحی کے زمانے میں مرنے والاک ہے گا کہ پروردگار میرے پاس تیرا کوئی پیغمبر ہی نہیں آیا اللہ ان سے یہ وعدہ لے گا کہ وہ اس کی اطاعت کر یں گے اور پھر انہیں حکم دے گا کہ جہنم میں داخل ہو جائیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ جہنم میں داخل ہو گئے تو وہ ان کے لئے ٹھنڈی اور باعث سلامتی بن جائے گی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة مدلس، وقد عنعن، ثم إن سماعه من الأحنف بن قيس مستبعد