حدیث نمبر: 16232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ، عَنِ الرَّبَابِ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ، فَلْيُفْطِرْ بِمَاءٍ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ : " مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ : " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صِلَةٌ وَصَدَقَةٌ " .مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان بن عامر سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کر ے تو اسے چاہیے کہ کھجور سے روزہ افطار کر ے اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ اور فرمایا کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اور اس سے آلائشیں دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔ اور فرمایا : مسکین پر صدقہ کرنے کا اکہرا ثواب ہے اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔