مسند احمد
مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين
حَدِیث قَتَادَةَ بنِ النّعمَانِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ . وعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ فُلَانٍ . وعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَلَمْ يَبْلُغْ أَبُو الزُّبَيْرِ هَذِهِ الْقِصَّةَ كُلَّهَا ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ أَتَى أَهْلَهُ ، فَوَجَدَ قَصْعَةَ ثَرِيدٍ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ، فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي حَجٍّ ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ ، وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ ، فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ " ، قَالَ : " وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ ، فَكُلُوا ، وَتَصَدَّقُوا ، وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِهَا ، وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لُحُومِهَا شَيْئًا ، فَكُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ " .سیدنا ابوسعید خدری ایک مرتبہ سیدنا قتادہ کے گھر آئے اور دیکھا کہ بقرعید کے گوشت میں بنا ہوا ثرید ایک پیالے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا سیدنا قتادہ بن نعمان ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دوران کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں نے تمہیں پہلے حکم دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھاؤ تاکہ تم سب کو پورا ہو جائے اب میں تمہیں اس کی اجازت دیتا ہوں اب جب تک چاہو کھا سکتے ہواور فرمایا کہ ہدی اور قربانی کے جانور کا گوشت مت بیچو خود کھاؤ یا صدقہ کر دو اور اس کی کھال سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہواگر تم کسی کو ان کا گوشت کھلا سکتے ہو تو خود بھی جب تک چاہو کھا سکتے ہو ۔