حدیث نمبر: 1620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ ، وَرَجُلٌ يَتَتَرَّسُ ، جَعَلَ يَقُولُ بِالتُّرْسِ هَكَذَا ، فَوَضَعَهُ فَوْقَ أَنْفِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا ، يُسَفِّلُهُ بَعْدُ ، قَالَ : فَأَهْوَيْتُ إِلَى كِنَانَتِي ، فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا سَهْمًا مُدَمًّا ، فَوَضَعْتُهُ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ، فَلَمَّا قَالَ : هَكَذَا ، يُسَفِّلُ التُّرْسَ ، رَمَيْتُ ، فَمَا نَسِيتُ وَقْعَ الْقِدْحِ عَلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ التُّرْسِ ، قَالَ : وَسَقَطَ ، فَقَالَ بِرِجْلِهِ ، فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَحْسِبُهُ قَالَ : حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : لِمَ ؟ قَالَ : لِفِعْلِ الرَّجُلِ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو ڈھال سے اپنے آپ کو بچا رہا تھا، کبھی وہ ڈھال کو اپنی ناک کے اوپر رکھ لیتا، کبھی اس سے نیچے کر لیتا، میں نے یہ دیکھ کر اپنے ترکش کی طرف توجہ کی، اس میں سے ایک خون آلود تیر نکالا اور اسے کمان میں جوڑا، جب اس نے ڈھال کو نیچے کیا تو میں نے اسے تاک کر تیر دے مارا، اس سے پہلے میں تیر کی لکڑی لگانا نہ بھولا تھا، تیر لگتے ہی وہ نیچے گر پڑا اور اس کی ٹانگیں اوپر کو اٹھ گئیں، جسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: ”اس آدمی کی اس حرکت کی وجہ سے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة محمد بن محمد بن الأسود.